تعارف
روبوٹکس کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اے سی ای روبوٹکس کے چیئرمین وانگ زیاؤ گانگ نے پیش گوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے دماغ 2027 کے آخر تک چیٹ جی پی ٹی جیسا انقلابی موڑ حاصل کر لیں گے۔ اس پیش رفت سے روبوٹ حقیقی دنیا میں انسانوں کی طرح کام کر سکیں گے۔ اس مضمون میں ہم اس بڑی پیش گوئی اور روبوٹکس انڈسٹری پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔
2027 میں بڑی تبدیلی کی توقع
وانگ زیاؤ گانگ کے مطابق روبوٹ کے دماغ 2027 کے آخر تک انقلابی موڑ حاصل کر لیں گے۔ اس پیش رفت کو ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس کا چیٹ جی پی ٹی موڑ کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روبوٹ ناواقف ماحول میں بغیر کسی پہلے تربیت کے 80 فیصد کام خود بخود کر سکیں گے۔ اس پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے ورلڈ ماڈلز اور ماحولیاتی ڈیٹا کو استعمال کیا جائے گا۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جس نے چیٹ جی پی ٹی کو کامیاب بنایا تھا۔ تاہم وانگ زیاؤ گانگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد بھی روبوٹ کو مکمل طور پر روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے میں چار سے پانچ سال لگیں گے۔
ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس کیا ہے؟
ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس روبوٹ کی وہ صلاحیت ہے جو انہیں حقیقی دنیا کو سمجھنے اور اس میں کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ چیٹ جی پی ٹی جیسی زبان کی ماڈلز سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں چیٹ جی پی ٹی صرف متن کو سمجھتی ہے وہیں ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس روبوٹ کو بصارت، سمع، اور جسمانی حرکت کو ایک ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ وانگ زیاؤ گانگ کا کہنا ہے کہ ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس ماڈلز روبوٹ کو حقیقی وقت میں ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وہ ٹیکنالوجی ہے جو روبوٹ کو انسانوں کی طرح سوچنے اور عمل کرنے کے قابل بنائے گی۔

ڈیٹا کا بحران اور حل
روبوٹ کے دماغ کو تربیت دینے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ڈیٹا کی کمی ہے۔ پوری صنعت میں پچھلے چند سالوں میں صرف 100,000 گھنٹے کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکا ہے۔ یہ مقدار روبوٹ کو مکمل طور پر تربیت دینے کے لیے ناکافی ہے۔ اے سی ای روبوٹکس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ استعمال کر رہی ہے۔ کمپنی نے حقیقی پروڈکشن لائنوں پر کام کرنے والے لوگوں کو ہلکے سینسرز پہنا کر ان کی حرکات کو ریکارڈ کرنا شروع کیا ہے۔ اس طریقے سے دو سالوں میں ڈیٹا کے کروڑوں گھنٹے اکٹھے کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کائروس فور بی ماڈل کی کامیابی
اے سی ای روبوٹکس کا اپنا ورلڈ ماڈل کائروس فور بی ہے۔ صرف 4 ارب پیرامیٹرز کے ساتھ یہ ماڈل دنیا بھر کی بینچ مارکنگ میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس نے این ویڈیا کے کاسموس تھری اور اینٹ گروپ کے لنگ بوٹ جیسے بڑے ماڈلز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ ماڈل بصارت کو سمجھنے، ملٹی موڈل ادراک، جسمانی تخروپن اور عمل کی منصوبہ بندی کو یکجا کرتا ہے۔ یہ کئی منٹوں کے طویل ویڈیوز اور عمل کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صنعت میں سب سے جدید ورلڈ ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔
حقیقی دنیا میں استعمال
اے سی ای روبوٹکس اپنے ماڈلز کو حقیقی دنیا میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمپنی نے بغیر عملے کی خوردہ دکانیں، ہوٹل سروسز، اور فوری ڈلیوری گوداموں میں ان ماڈلز کو تعینات کیا ہے۔ ان جگہوں پر یونٹری، ایجی بوٹ اور فوئیر جیسی کمپنیوں کے انسان نما روبوٹ کام کر رہے ہیں۔ وانگ زیاؤ گانگ کے مطابق اگلے سال کم از کم 1000 دکانوں میں یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ دو سالوں میں یہ تعداد 10,000 تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنی تربیت کے لیے این ویڈیا کے ساتھ ساتھ چینی کمپنیوں کی اے آئی چپس بھی استعمال کر رہی ہے۔

نتیجہ
اے سی ای روبوٹکس کی پیش گوئی کے مطابق روبوٹکس انڈسٹری 2027 تک ایک تاریخی موڑ پر پہنچ جائے گی۔ روبوٹ کے دماغ چیٹ جی پی ٹی کی طرح انقلابی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اس سے روبوٹ ناواقف ماحول میں بھی انسانوں کی طرح کام کر سکیں گے۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود روبوٹ کو عام زندگی میں مکمل طور پر استعمال ہونے میں مزید چار سے پانچ سال لگیں گے۔ ڈیٹا کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن اے سی ای روبوٹکس اور دوسری کمپنیاں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ آنے والے سال روبوٹکس کی دنیا کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے۔