تعارف
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ دنوں اسٹرائیک کی دھمکی دی تھی۔ اس کی وجہ ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کا مطالبہ تھا۔ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں اسٹرائیک ٹل گئی۔ اس مضمون میں ہم اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔
مارجن میں اضافے کا فیصلہ
حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کو منظوری دے دی۔ یہ اضافہ 1.34 روپے فی لیٹر ہے۔ اس کے بعد ڈیلرز کا کل مارجن 10 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے ۔ پہلے یہ مارجن 8.64 روپے فی لیٹر تھا۔ اب یہ بڑھ کر 9.98 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے ۔
اس اضافے کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا ۔ ای سی سی نے اس معاملے پر تفصیلی غور کیا۔ فنانس منسٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں مارجن میں اضافے کی منظوری دی گئی ۔
اسٹرائیک میں تاخیر کی وجوہات
پی پی ڈی اے نے حکومت کی یقین دہانیوں پر اسٹرائیک ملتوی کی ۔ تاہم ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے واضح کیا کہ احتجاج جاری رہے گا ۔ وہ تمام مطالبات کی تکمیل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ڈیلرز کے وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ تین سال سے مارجن میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس وجہ سے 50 ملین ڈالر ڈیلرز کا حکومت کے پاس باقی ہے ۔ یہ وہ رقم ہے جو مارجن میں اضافے کی صورت میں انہیں ملنی چاہیے تھی۔

قیمتوں کے نظام میں ممکنہ تبدیلی
پی پی ڈی اے کے چیئرمین نے ایک اور اہم بات کہی۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر 7 یا 17 دن بعد نظرثانی ہو سکتی ہے ۔ اس وقت قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی ہو رہی ہے ۔
حکومت نے ڈیلرز کی ماہانہ قیمتوں کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔ ڈیلرز کے مطابق روزانہ قیمتوں کا نظام غیر مناسب ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے۔
ڈیلرز کے دیگر مطالبات
ڈیلرز کا ایک اہم مطالبہ روزانہ قیمتوں کے نظام کا خاتمہ ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے کمیشن میں اضافہ چاہتے ہیں ۔ پٹرولیم کمپنیوں کی طرف سے لگائی گئی کوٹہ پابندیوں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ ہے ۔
ایسوسی ایشن کے اندر گروہ بندی بھی ہے۔ اس کی وجہ سے اسٹرائیک کی کال کا اثر کم ہوا ۔ کچھ گروہوں نے اسٹرائیک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔

نتیجہ
پی پی ڈی اے کی اسٹرائیک کا معاملہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ حکومت نے مارجن میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم اسٹرائیک کو صرف ملتوی کیا گیا ہے۔ ڈیلرز اپنے دیگر مطالبات پر زور دیتے رہیں گے۔
روزانہ قیمتوں کا نظام اب بھی تنازع کا باعث ہے۔ ڈیلرز اسے اپنے کاروبار کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں ۔ اس معاملے پر مزید مذاکرات کی توقع ہے۔ اس وقت صورتحال کشیدہ ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔